حدیث نمبر: 5473
وَعَنْ يَعْلَى قَالَ : طُفْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَاسْتَلَمْنَا الرُّكْنَ . قَالَ يَعْلَى : فَكُنْتُ مِمَّا يَلِي الْبَيْتَ فَلَمَّا بَلَغْنَا الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ جَرَرْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقُلْتُ : أَلَا تَسْتَلِمُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : وَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْغَرْبِيَّيْنِ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ ! قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : فَانْفُذْ عَنْكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَلَهُ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى إِسْنَادَانِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا ہم نے رکن یمانی کا استلام کیا سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ان افراد میں سے تھا جو بیت اللہ کی طرف تھے جب ہم رکن مغربی کے پاس پہنچے جو حجر اسود کے ساتھ آتا ہے ، تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ استلام کریں ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ میں نے کہا: : کیا آپ استلام نہیں کریں گے ؟ انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے اللہ کے رسول کے ساتھ طواف نہیں کیا میں نے کہا: جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو مغربی رکنوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : کیا تمہارے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بہترین نمونہ نہیں ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا پھر تم اس سے آگے گزر جاؤ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس روایت کو دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام أحمد کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5473
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح