مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّوَافِ وَالرَّمَلِ وَالِاسْتِلَامِ . باب: طواف کرنا رمل کرنا اور استلام کرنا
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الرُّكْنِ الَّذِي يَلِي الْبَابَ مِمَّا يَلِي الْحَجَرَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ فَقَالَ : أَمَا طُفْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : فَهَلْ رَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُهُ ؟ قُلْتُ : قَالَ : فَانْفُذْ عَنْكَ ، فَإِنَّ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةً حَسَنَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا جب میں اس رکن کے پاس موجود تھا جو حجر اسود والی طرف میں دروازے کے پاس ہے ، تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا تاکہ وہ استلام کریں ، تو انہوں نے فرمایا : کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا ہے میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا: : جی نہیں ! انہوں نے کہا: پھر تم اس سے گزر جاؤ کیونکہ تمہارے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طریقے میں بہترین نمونہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جس میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔