حدیث نمبر: 5431
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا أَنْ قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ : " اجْعَلُوا حَجَّكُمْ عُمْرَةً " . قَالَ نَاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عُمْرَةً ؟ قَالَ : " انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا " قَالَ : فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ . فَغَضِبَ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانَ قَالَ : فَعَرَفَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ : مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ ؟ قَالَ : " مَا لِي لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ بِالْأَمْرِ لَا يُتَّبَعُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نکلے ہم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کر دو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے حج کا احرام باندھا تھا ہم اسے عمرہ کیسے بنا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو ، جس کی میں تمہیں ہدایت کر رہا ہوں اور ویسا ہی کرو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر عمل نہیں کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے آپ تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ غصے کے عالم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو آپ کے چہرے پر غصے کے آثار کا اندازہ ہو گیا انہوں نے عرض کی : کس نے آپ کو غضبناک کیا ہے تاکہ میں بھی اس پر غصہ کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں غصہ کیوں نہ کروں ؟ میں نے ایک حکم دیا ہے ، جس کی پیروی نہیں کی جا رہی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5431
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1672 ) اخرجه احمد فى المسند (286/4)»