کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حج کو فسخ کر کے عمرہ کرنا
حدیث نمبر: 5429
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ : مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ مَعَهُ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَطُّ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا ؟ قَالَ : وَيْحَكَ ! ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَحِلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ ؟ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ ، وَلَكِنَّهُ عُمْرَةٌ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب بیان کرتے ہیں : انہوں نے کہا: اے ابوعباس ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص حج کے لئے آئے اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہو پھر اگر وہ بیت اللہ کا طواف کر کے عمرہ کر کے احرام کھول سکتا ہے ، اور جو حاجی اس کا طواف کر لے اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا ہو تو وہ حج اور عمرہ اکٹھا کرے گا آپ تو یہ کہتے ہیں ، لیکن لوگ تو یہ نہیں کہتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تھے ۔ آپ کے ساتھ ایسے اصحاب بھی تھے جو صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد عمرہ کر کے احرام کھول دے ان میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا یہ حج ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حج نہیں ہے بلکہ یہ عمرہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5429
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5430
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( مَكَّةَ ) وَأَصْحَابُهُ مُلَبِّينَ - قَالَ عَفَّانُ : مُهِلِّينَ - بِالْحَجِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَا أَهْلَلْتَ ؟ " . قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ رَوِّحْ : فَإِنَّ لَكَ مَعَنَا هَدْيًا ، قَالَ حُمَيْدٌ : فَحَدَّثْتُ بِهِ طَاوُسًا فَقَالَ : هَكَذَا فَعَلَ الْقَوْمُ ( قَالَ عَفَّانُ : اجْعَلْهَا عُمْرَةً ) . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے آپ کے اصحاب تلبیہ پڑھ رہے تھے یہاں عفان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حج کا احرام باندھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص چاہے وہ اسے عمرہ بنا لے البتہ جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے اس کے لئے یہ حکم نہیں ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے کوئی ایک شخص منیٰ کی طرف جائے ، تو اس کی شرمگاہ سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ اسی دوران ( کچھ لوگوں نے ) خوشبو بھی لگا لی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تھے ۔ آپ نے دریافت کیا : تم نے کیا نیت کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے یہی نیت کی ہے کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم روانہ ہو جاؤ کیونکہ تم ہمارے ساتھ ہو گئے کیونکہ قربانی کا جانور ساتھ ہے ۔ حمید نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے طاؤس کو یہ حدیث بیان کی ، تو انہوں نے فرمایا : لوگوں نے ایسا ہی کیا تھا عفان کہتے ہیں : یہ الفاظ ہیں : تم اسے عمرہ بنا لو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5693) اخرجه احمد فى المسند (4822)»
حدیث نمبر: 5431
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا أَنْ قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ : " اجْعَلُوا حَجَّكُمْ عُمْرَةً " . قَالَ نَاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عُمْرَةً ؟ قَالَ : " انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا " قَالَ : فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ . فَغَضِبَ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانَ قَالَ : فَعَرَفَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ : مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ ؟ قَالَ : " مَا لِي لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ بِالْأَمْرِ لَا يُتَّبَعُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نکلے ہم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کر دو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے حج کا احرام باندھا تھا ہم اسے عمرہ کیسے بنا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو ، جس کی میں تمہیں ہدایت کر رہا ہوں اور ویسا ہی کرو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر عمل نہیں کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے آپ تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ غصے کے عالم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو آپ کے چہرے پر غصے کے آثار کا اندازہ ہو گیا انہوں نے عرض کی : کس نے آپ کو غضبناک کیا ہے تاکہ میں بھی اس پر غصہ کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں غصہ کیوں نہ کروں ؟ میں نے ایک حکم دیا ہے ، جس کی پیروی نہیں کی جا رہی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5431
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1672 ) اخرجه احمد فى المسند (286/4)»
حدیث نمبر: 5432
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا عَائِشَةَ تَنْزِعُ ثِيَابَهَا ، فَقَالَ لَهَا : " مَا لَكِ ؟ " . قَالَتْ : أُنْبِئْتُ أَنَّكَ قَدْ أَحْلَلْتَ ، وَأَحْلَلْتَ أَهْلَكَ ، قَالَ : " أَحَلَّ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَمْ نَحِلَّ - إِنَّ مَعَنَا بُدْنًا - حَتَّى نَبْلُغَ عَرَفَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے گئے ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا کہ انہوں نے اپنے کپڑے الگ کر لیے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ آپ نے احرام کھول دیا ہے ، اور اپنی ازواج کو بھی احرام کھولنے کا کہا: ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : احرام اس نے ختم کیا ہے ، جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا جہاں تک ہمارا تعلق ہے ، تو ہم نے احرام ختم نہیں کیا کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کے جانور ہیں جب تک ہم عرفات نہیں پہنچیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5432
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (226/20)»
حدیث نمبر: 5433
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کرنے کے لئے روانہ ہوئے ۔ ہم نے حج کا احرام باندھا ، جب ہم مکہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ بنا لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5433
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5613 و5614)»
حدیث نمبر: 5434
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ طَالَمَا أَضْلَلْتَ النَّاسَ ! قَالَ : وَمَا ذَاكَ يَا عُرَيَّةُ ؟ قَالَ : الرَّجُلُ يَخْرُجُ مُحْرِمًا بِحَجٍّ أَوْ بِعُمْرَةٍ ، فَإِذَا طَافَ زَعَمْتَ أَنَّهُ قَدْ حَلَّ فَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَنْهَيَانِ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : أَهُمَا - وَيْحَكَ - آثَرُ عِنْدَكَ أَمْ مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ ، وَفِي أُمَّتِهِ ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ : هُمَا كَانَا أَعْلَمَ بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَمِنْكَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : فَخَصَمَهُ عُرْوَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا: اے سیدنا ابن عباس ! آپ کتنے عرصے سے لوگوں کو غلط فہمی کا شکار کر رہے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے عریہ ! کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا: ایک شخص حج اور عمرے کا احرام باندھ کر نکلتا ہے ، جب وہ طواف کر لیتا ہے ، تو آپ کا یہ کہنا ہے کہ وہ احرام کھول سکتا ہے ، حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس چیز سے منع کیا کرتے تھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ۔ تمہارے نزدیک یہ دونوں قابل ترجیح ہیں ، یا وہ چیز قابل ترجیح ہے جو اللہ کی کتاب میں ہو ، یا جسے اللہ کے رسول نے اپنے اصحاب کے بارے میں اور اپنی امت کے بارے میں سنت کے طور پر مقرر کیا ہو ؟ عروہ نے کہا: یہ دونوں حضرات اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتے تھے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا بھی مجھ سے اور آپ سے زیادہ علم رکھتے تھے ۔ ابن ابوملیکہ کہتے ہیں : تو یوں عروہ نے ان سے اختلاف کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5434
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 5435
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ الْمُزَنِيِّ - صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَيْسَ لِأَحَدٍ بَعْدَنَا أَنْ يُحْرِمَ بِالْحَجِّ ، ثُمَّ يَفْسَخَ حَجَّهُ بِعُمْرَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ہلال مزنی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ” ہمارے بعد کسی کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ وہ حج کا احرام باندھے اور عمرہ کے ذریعے اپنے احرام کو فسخ کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے : عبداللہ بن عبد مزنی سے
یہ روایت منقول ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5435
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً