حدیث نمبر: 5432
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا عَائِشَةَ تَنْزِعُ ثِيَابَهَا ، فَقَالَ لَهَا : " مَا لَكِ ؟ " . قَالَتْ : أُنْبِئْتُ أَنَّكَ قَدْ أَحْلَلْتَ ، وَأَحْلَلْتَ أَهْلَكَ ، قَالَ : " أَحَلَّ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَمْ نَحِلَّ - إِنَّ مَعَنَا بُدْنًا - حَتَّى نَبْلُغَ عَرَفَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے گئے ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا کہ انہوں نے اپنے کپڑے الگ کر لیے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ آپ نے احرام کھول دیا ہے ، اور اپنی ازواج کو بھی احرام کھولنے کا کہا: ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : احرام اس نے ختم کیا ہے ، جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا جہاں تک ہمارا تعلق ہے ، تو ہم نے احرام ختم نہیں کیا کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کے جانور ہیں جب تک ہم عرفات نہیں پہنچیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5432
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (226/20)»