مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ . باب: حج کو فسخ کر کے عمرہ کرنا
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ : مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ مَعَهُ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَطُّ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا ؟ قَالَ : وَيْحَكَ ! ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَحِلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ ؟ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ ، وَلَكِنَّهُ عُمْرَةٌ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب بیان کرتے ہیں : انہوں نے کہا: اے ابوعباس ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص حج کے لئے آئے اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہو پھر اگر وہ بیت اللہ کا طواف کر کے عمرہ کر کے احرام کھول سکتا ہے ، اور جو حاجی اس کا طواف کر لے اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا ہو تو وہ حج اور عمرہ اکٹھا کرے گا آپ تو یہ کہتے ہیں ، لیکن لوگ تو یہ نہیں کہتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تھے ۔ آپ کے ساتھ ایسے اصحاب بھی تھے جو صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد عمرہ کر کے احرام کھول دے ان میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا یہ حج ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حج نہیں ہے بلکہ یہ عمرہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔