مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَعْطَبُ مِنَ الْهَدْيِ وَالْأَكْلِ مِنْهُ . باب: قربانی کا جو جانور تھک جائے ( اور سفر کے قابل نہ رہے ) اور اس کا گوشت کھانا
وَعَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ بِبَدَنَتَيْنِ مَعَ رَجُلٍ فَقَالَ : " إِنْ عَرَضَ لَهُمَا فَانْحَرْهُمَا وَاغْمِسِ النَّعْلَ فِي دِمَائِهِمَا ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَيْهِمَا حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّهُمَا بَدَنَتَانِ " . قَالَ : " صَفْحَتَيْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهُمَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ وَدَعْهُمَا لِمَنْ بَعْدَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سنان بن سلمہ ہذلی ، اپنے والد کے حوالے سے
یہ روایت نقل کرتے ہیں : جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہمراہ قربانی کے دو اونٹ بھیجے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر انہیں کوئی مسئلہ لاحق ہو ، تو تم انہیں قربان کرنا جوتے ان کے خون میں ڈبو کر اس کے ذریعے ان کے پہلو پر نشان لگا دینا تاکہ یہ پتہ چل جائے کہ یہ قربانی کے جانور ہیں راوی بیان کرتے ہیں : ان میں سے ہر ایک کے دونوں پہلوں پر نشان لگانا اور اس میں سے تم کچھ نہ کھانا اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کوئی نہ کھائے اور تم ان دونوں کو اپنے بعد والوں کے لئے چھوڑ دینا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔