حدیث نمبر: 5402
وَعَنِ الْأَنْصَارِيِّ - صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ - قَالَ : رَجَعْتُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَأْمُرُنِي بِمَا عَطِبَ مِنْهَا ؟ قَالَ : " انْحَرْهَا ، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ جَنْبِهَا ، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

انصاری ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے نگران تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھجوایا تو میں واپس آیا اور میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کوئی تھک جائے ( وہ سفر کے قابل نہ رہے ) تو اس کے بارے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے قربان کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگین کر کے اس کے ذریعے اس کے پہلو پر ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نشان لگا دینا اور تم اور تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی ایک اس کا گوشت نہ کھائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5402
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (377/5)»