کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قربانی کا جو جانور تھک جائے ( اور سفر کے قابل نہ رہے ) اور اس کا گوشت کھانا
حدیث نمبر: 5400
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الثُّمَالِيُّ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي هَدْيًا قَالَ : " إِذَا عَطِبَ شَيْءٌ مِنْهَا فَانْحَرْهُ ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهُ ، وَلَا تَأْكُلْهُ أَنْتَ وَلَا أَهْلُ رُفْقَتِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن خارجه ثمالی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ قربانی کا جانور بھیجا آپ نے ارشاد فرمایا : جب ان میں سے کوئی تھک جائے تو تم اسے قربان کر دینا پھر اس کا جوتا ( جو گلے میں ہار کے طور پر ڈالا گیا ہو ) وہ اس کے خون میں لگا کر اس کے ذریعے اس کے پہلو پر داغ لگا دینا او تم خود اور تمہارے رفقاء میں سے کوئی اس کا گوشت نہ کھائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5400
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (42/17) اخرجه احمد فى المسند (238, 187/4)»
حدیث نمبر: 5401
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ - وَكَانَ صَاحِبَ لِوَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَحُجَّ فَرَجَّلَ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسِهِ فَإِذَا هَدْيُهُ قَدْ قُلِّدَ ، فَأَهَلَّ وَحَلَّ الشِّقَّ الْآخَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لواء بردار تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا ، انہوں نے اپنے سر کے ایک حصے میں کنگھی کر لی ہوئی تھی ، اسی دوران ان کے جانور کے گلے میں جوتا ڈال دیا گیا ، تو انہوں نے تلبیہ پڑھنا شروع کر دیا ، اور سر کے دوسرے حصے کو ایسے ہی چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5401
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (347/18)»
حدیث نمبر: 5402
وَعَنِ الْأَنْصَارِيِّ - صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ - قَالَ : رَجَعْتُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَأْمُرُنِي بِمَا عَطِبَ مِنْهَا ؟ قَالَ : " انْحَرْهَا ، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ جَنْبِهَا ، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
انصاری ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے نگران تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھجوایا تو میں واپس آیا اور میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کوئی تھک جائے ( وہ سفر کے قابل نہ رہے ) تو اس کے بارے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے قربان کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگین کر کے اس کے ذریعے اس کے پہلو پر ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نشان لگا دینا اور تم اور تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی ایک اس کا گوشت نہ کھائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5402
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (377/5)»
حدیث نمبر: 5403
وَعَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ بِبَدَنَتَيْنِ مَعَ رَجُلٍ فَقَالَ : " إِنْ عَرَضَ لَهُمَا فَانْحَرْهُمَا وَاغْمِسِ النَّعْلَ فِي دِمَائِهِمَا ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَيْهِمَا حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّهُمَا بَدَنَتَانِ " . قَالَ : " صَفْحَتَيْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهُمَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ وَدَعْهُمَا لِمَنْ بَعْدَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سنان بن سلمہ ہذلی ، اپنے والد کے حوالے سے
یہ روایت نقل کرتے ہیں : جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہمراہ قربانی کے دو اونٹ بھیجے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر انہیں کوئی مسئلہ لاحق ہو ، تو تم انہیں قربان کرنا جوتے ان کے خون میں ڈبو کر اس کے ذریعے ان کے پہلو پر نشان لگا دینا تاکہ یہ پتہ چل جائے کہ یہ قربانی کے جانور ہیں راوی بیان کرتے ہیں : ان میں سے ہر ایک کے دونوں پہلوں پر نشان لگانا اور اس میں سے تم کچھ نہ کھانا اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کوئی نہ کھائے اور تم ان دونوں کو اپنے بعد والوں کے لئے چھوڑ دینا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5403
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6345) اخرجه احمد فى المسند (7,6/5)»
حدیث نمبر: 5404
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَكُونُ مَعَهُ الْهَدْيُ تَطَوُّعًا فَيَعْطَبُ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ ؟ قَالَ : " يَنْحَرُهَا ثُمَّ يُلَطِّخُ نَعْلَهَا بِدَمِهَا ثُمَّ يَضْرِبُ بِهِ جَنْبَهَا فَإِنْ أَكَلَ مِنْهَا وَجَبَ عَلَيْهِ قَضَاؤُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا بِاخْتِصَارٍ عَنِ الْمَرْفُوعِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْجَمِيعِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جس کے ساتھ نفلی قربانی ہوتی ہے ، اور وہ اپنے مقام تک پہنچنے سے پہلے تھک جاتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی ! سے قربان کرے گا ، اور پھر اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگین کر کے اس کے ذریعے اس کے پہلو پر نشان لگا دے گا اگر وہ شخص خود اس کا گوشت کھا لیتا ہے ، تو اس پر اس کی قضاء لازم ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ” مرفوع “ روایت کے طو پر نقل کی ہے ، اور ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ، جو ” مرفوع “ کے مقابلے میں مختصر ہے ، اور ان سب کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جو خراب حافظے کا مالک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5405
وَعَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيٍ فَقَالَ : كُلْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ ثُلُثًا وَتَصَدَّقْ بِثُلُثٍ وَابْعَثْ إِلَى أَخِي عُتْبَةَ بِثُلُثٍ . قُلْتُ لِسُفْيَانَ : تَطَوُّعٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْأَكْلِ مِنَ الْهَدْيِ فِي الْبَابِ الْأَوَّلِ مِنَ الْهَدْيِ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے ہمراہ قربانی کا جانور بھیجا اور یہ فرمایا : تم اور تمہارے ساتھی ایک تہائی حصہ کھا لینا ایک تہائی حصے کو تم صدقہ کر دینا اور ایک تہائی حصہ میرے بھائی عتبہ کو بھجوا دینا ۔ رادی کہتے ہیں : میں نے سفیان سے دریافت کیا : کیا وہ نفلی قربانی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے ہدی سے متعلق پہلے باب میں ہدی کا گوشت کھانے سے متعلق ایک حدیث جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے وہ گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5405
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9702)»