مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ . باب: احرام باندھنا اور تلبیہ پڑھنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَنَحْنُ مَعَهُ قَدْ خَرَجْنَا نَعْتَمِرُ فَلَمَّا انْحَدَرْنَا مِنَ الْأَكَمَةِ فِي الْوَادِي اغْتَسَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَاغْتَسَلْنَا مَعَهُ وَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالتَّلْبِيَةِ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ : سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ : هَذِهِ وَاللَّهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤عبداللہ بن عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا ہم اس وقت ان کے ساتھ تھے ، اور ہم عمرہ کرنے کے لئے نکلے تھے ، جب ہم وادی میں موجود ٹیلے کی طرف آ رہے تھے تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے غسل کیا دو رکعات ادا کیں ان کے ساتھ ہم نے بھی غسل کیا ، اور ہم نے بھی دو رکعات ادا کر لیں پھر انہوں نے یہ تلبیہ پڑھنا شروع کیا : ” میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے مخصوص ہے ، اور بادشاہی بھی ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔ عبداللہ بن عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : اللہ کی قسم ! یہ اللہ کے رسول کے تلبیہ ( کے کلمات ) ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا آپ نے نماز کے بعد احرام باندھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔