مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ . باب: احرام باندھنا اور تلبیہ پڑھنا
وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمَازِنِيِّ - وَكَانَ أَبُو دَاوُدَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى فِيهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُ الَّذِينَ كَانُوا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالُوا : أَهَلَّ مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَأَهَلَّ حِينَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَقَالَ الَّذِينَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ : أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، ثُمَّ لَمَّا اسْتَوَى عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ فَسَمِعَهُ الَّذِينَ كَانُوا عَلَى الْبَيْدَاءِ فَقَالُوا : أَهَلَّ مِنَ الْبَيْدَاءِ . وَصَدَقُوا كُلُّهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا ابوداؤد مازنی رضی اللہ عنہ جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد ذوالحلیفہ میں داخل ہوئے آپ نے اس میں چار رکعات ادا کیں پھر آپ نے مسجد میں تلبیہ پڑھا جو لوگ مسجد میں موجود تھے انہوں نے آپ کو سن لیا تو انہوں نے کہا: آپ نے مسجد سے تلبیہ پڑھنا شروع کیا ، پھر جب آپ سواری پر سوار ہوئے تو آپ نے تلبیہ پڑھا تو جو جو لوگ مسجد کے پاس موجود تھے انہوں نے یہ کہا: جب آپ کی سواری کھڑی ہوئی تھی اس وقت آپ نے تلبیہ پڑھا تھا پھر جب آپ کھلے میدان میں آ کے کھڑے ہوئے تو آپ نے تلبیہ پڑھا تو جو لوگ آپ کے پاس موجود تھے انہوں نے آپ کو سن لیا اور یہ بات بیان کی کہ آپ نے میدان سے تلبیہ پڑھنا شروع کیا ، تو ان سب لوگوں نے صحیح بات بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن سعید بن جبیر ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔ اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔