مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ . باب: احرام باندھنا اور تلبیہ پڑھنا
حدیث نمبر: 5359
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ تَلْبِيَةُ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدَيْكَ " . وَكَانَتْ تَلْبِيَةُ عِيسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ " . وَكَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے : ” تیراہ بندہ اور تیرے دو بندوں ( یعنی تیرے بندے اور کنیز ) کا بیٹا حاضر ہے “ ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے : ” تیرا بندہ اور تیری کنیز کا بیٹا حاضر ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے : ” میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔