مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَحْرَمَ قَبْلَ الْمِيقَاتِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو میقات سے پہلے احرام باندھ لیتا ہے
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْهَادِيَةِ قَالَ : لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ لِي : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ عُمَانَ . قَالَ : مِنْ أَهْلِ عُمَانَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ! قَالَ : أَفَلَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ( قُلْتُ بَلَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا - يُقَالُ لَهَا : عُمَانُ - يَنْضَحُ بِنَاحِيَتِهَا أَوْ بِجَانِبَيْهَا الْبَحْرُ ، الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤حسن بن ہادیہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے جواب دیا اہل عمان سے انہوں نے دریافت کیا : اہل عمان سے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں ایک ایسی سرزمین کے بارے میں جانتا ہوں جس کا نام عمان ہے اس کے دونوں طرف سمندر ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) وہاں سے حج کرنا اس کے علاوہ کسی اور جگہ سے دو مرتبہ حج کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔