مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَحْرَمَ قَبْلَ الْمِيقَاتِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو میقات سے پہلے احرام باندھ لیتا ہے
حدیث نمبر: 5321
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ أَحْرَمَ مِنَ الْبَصْرَةِ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ - وَكَانَ قَدْ بَلَغَهُ ذَلِكَ - أَغْلَظَ لَهُ وَقَالَ : يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ مِنْ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بصرہ سے احرام باندھا وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں اطلاع دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ، اور فرمایا : لوگ یہ بات چیت کریں گے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک اور شہر سے احرام باندھ لیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ حسن نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔