❮
❯
حدیث نمبر: 5295
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَخْصَبَتِ الْأَرْضُ فَانْزِلُوا عَنْ ظَهْرِكُمْ فَأَعْطُوهُ حَقَّهُ مِنَ الْكَلَأِ ، وَإِذَا أَجْدَبَتِ الْأَرْضُ فَانْجُوا عَلَيْهَا بِنَقْبِهَا ، وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ ; فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا رُوَيْمٍ الْمِعْوَلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب زمین ہریالی ہو ، تو تم اپنی سواریوں سے اترو اور گھاس پھوس کے حوالے سے انہیں ان کا حق دو اور جب زمین میں خشک سالی ہو ، تو تم تیزی سے وہاں سے گزر جاؤ تم پر رات کے وقت سفر کرنا لازم ہے کیونکہ رات میں زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ربیع ہے ۔ امام أحمد اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف رویم معولی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5295
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (3618) ، أخرجه سنن أبي داود برقم: 2571، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1672، 2581، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2555، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 6315، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 113، وأخرجه المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية برقم: 1981، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2411»