مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ أَدَبِ السَّفَرِ . باب: سفر کے آداب کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَخْصَبَتِ الْأَرْضُ فَانْزِلُوا عَنْ ظَهْرِكُمْ فَأَعْطُوهُ حَقَّهُ مِنَ الْكَلَأِ ، وَإِذَا أَجْدَبَتِ الْأَرْضُ فَانْجُوا عَلَيْهَا بِنَقْبِهَا ، وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ ; فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا رُوَيْمٍ الْمِعْوَلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب زمین ہریالی ہو ، تو تم اپنی سواریوں سے اترو اور گھاس پھوس کے حوالے سے انہیں ان کا حق دو اور جب زمین میں خشک سالی ہو ، تو تم تیزی سے وہاں سے گزر جاؤ تم پر رات کے وقت سفر کرنا لازم ہے کیونکہ رات میں زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ربیع ہے ۔ امام أحمد اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف رویم معولی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔