حدیث نمبر: 5294
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ ، إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ يَسِيرُونَ ، سَائِقُهُمْ يَقْرَأُ وَقَائِدُهُمْ يَحْدُو ، فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يُهَرْوِلُ بِغَيْرِ رِدَاءٍ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ نَكْفِيكَ ؟ فَقَالَ : " دَعُونِي أُبَلِّغْهُمْ مَا أُوحِيَ إِلَيَّ فِي أَمْرِهِمْ " . فَلَحِقَهُمْ فَقَالَ : " أَيْنَ تُرِيدُونَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ ؟ " . قَالُوا : نُرِيدُ الْيَمَنَ . قَالَ : " فَمَا سَيْرُكُمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَإِنَّ لِلَّهِ فِي السَّمَاءِ سُلْطَانًا عَظِيمًا يُوَجِّهُهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَلَا تَسِرُوا وَلَا خُطْوَةً إِلَّا مَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِي بَطْنِهِ وَمَثَانَتِهِ مِنَ الْبَوْلِ الَّذِي لَا نَجِدُ مِنْهُ بُدًّا وَلَا خُطْوَةً ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا سَائِقَ الْقَوْمِ فَعَلَيْكَ بِبَعْضِ كَلَامِ الْعَرَبِ مِنْ رَجَزِهَا ، وَإِذَا كُنْتَ رَاكِبًا فَاقْرَأْ ، وَعَلَيْكَ بِالدُّلْجَةِ ; فَإِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً مُوَكَّلِينَ يَطْوُونَ الْأَرْضَ لِلْمُسَافِرِ كَمَا تَطْوُونَ الْقَرَاطِيسَ ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ يَحْمَدُ الْقَوْمُ السُّرَى ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ شَاعِرٌ وَلَا كَاهِنٌ ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ ضَالَّةٌ ، وَلَا تَرُدُّنَّ سَائِلًا إِنْ أَرَدْتُمُ الرِّبْحَ وَالسَّلَامَةَ وَحُسْنَ الصَّحَابَةِ ، فَعَجَبٌ لِي كَيْفَ أَنَامُ حِينَ تَنَامُ الْعُيُونُ كُلُّهَا ؟ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ عَنِ السَّيْرِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ فِي النُّسْخَةِ كَمَا هَاهُنَا ، وَلَكِنَّهَا غَيْرُ مُقَابَلَةٍ ، وَفِيهِ سُلَيْمٌ أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الشَّعْبِيِّ وَمَوْلَاهُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا ، وَإِنَّمَا عِيبَ الْأَسَانِيدَ لَا يُتْقِنُهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب موجود تھے اسی دوران کچھ مسافر چلتے ہوئے وہاں سے گزرے جو شخص انہیں ہانک کے لے جا رہا تھا وہ تلاوت کر رہا تھا جو شخص ان کے آگے چل رہا تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ تیزی سے اٹھ کر چادر لئے بغیر بڑھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کی جگہ چلے جاتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم رہنے دو میں انہیں اس چیز کی تبلیغ کروں گا ، جو ان کے بارے میں مجھے تبلیغ کی گئی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں تک پہنچے آپ نے ارشاد فرمایا : اس گھڑی میں تم لوگ کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : ہم یمن جا رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس گھڑی میں تم کیوں سفر کر رہے ہو ؟ بے شک اللہ تعالیٰ کی آسمان میں عظیم بادشاہی ہے ، جسے وہ زمین والوں کی طرف بھیجتا ہے ، تو تم جب سفر کرو گے تو جو بھی قدم اٹھاؤ گے تو اس آدمی کو اپنے پیٹ اور مثانے میں ایسا پیشاب محسوس ہو گا کہ جس کو روکے بغیر نہیں جا سکے گا ، اور اے لوگوں کو ہانک کر لے جانے والے تم پر یہ لازم ہے کہ تم عرب کے کلام میں سے رجز کے طور پر کچھ پڑھ لو اور جب تم سوار ہو اس وقت قرأت کرو اور تم لوگوں پر رات میں سفر کرنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے فرشتے ہیں ، جو اس بات کے لئے مقرر ہیں کہ وہ مسافر کے لئے زمین کو یوں لپیٹ دیتے ہیں ، جس طرح تم لوگ کاغذ کو لپیٹتے ہو اور صبح ہو جانے کے بعد لوگ رات کے سفر کی تعریف کرتے ہیں ، تمہارے ساتھ کوئی شاعر یا کوئی کاہن نہ رہے ، اور تمہارے ساتھ کوئی گمشدہ جانور نہ ہو ، اور تم کسی مانگنے والے کو واپس نہ کرنا اور تم منافع اور سلامتی اور اچھا ساتھ چاہتے ہو ، اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میں کیسے سو جاتا ہوں جب تمام آنکھیں سوئی ہوتی ہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس گھڑی میں سفر کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ نسخے میں اسی طرح ہے ، جس طرح یہاں ہے ، لیکن یہ مقابلہ کے بغیر ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیم ابوسلمہ ہے ، جو امام شعبی کا شاگرد اور ان کا غلام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے ان کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، لیکن اسانید کا عیب اسے ” معتقن“ نہیں کرتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5294
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف