مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ أَدَبِ السَّفَرِ . باب: سفر کے آداب کا بیان
عَنْ ( أَبِي ) رَائِطَةَ بْنِ كَرَامَةَ الْمَذْحِجِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِقَوْمٍ سَفْرٍ : " لَا يَصْحَبَنَّكُمْ خِلَالٌ مِنْ هَذِهِ النَّعَمِ - ( يَعْنِي ) الضَّوَالِّ ، وَلَا يَصْحَبْنَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ضَالَّةً ، وَلَا يَرُدَّنَ سَائِلًا إِنْ كُنْتُمْ تُرِيدُونَ الرِّبْحَ وَالسَّلَامَةَ ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ مِنَ النَّاسِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ سَاحِرٌ وَلَا سَاحِرَةٌ ، وَلَا كَاهِنٌ وَلَا كَاهِنَةٌ ، وَلَا مُنَجِّمٌ وَلَا مُنَجِّمَةٌ ، وَلَا شَاعِرٌ وَلَا شَاعِرَةٌ ، وَإِنَّ كُلَّ عَذَابٍ يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُعَذِّبَ بِهِ أَحَدًا مِنْ عِبَادِهِ فَإِنَّمَا يُبْعَثُ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَأَنْهَاكُمْ عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ عِشَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ اللِّهْبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابورائطہ بن کرامہ مذحجی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے سفر کرنے والے لوگوں سے فرمایا تمہارے ساتھ ان جانوروں میں سے کوئی کمزور جانور نہ ہو ، اور نہ ہی تم میں سے کسی ایک کے ساتھ کوئی گمشدہ جانور ہو اور اگر تم منافع اور سلامتی چاہتے ہو ، تو کسی مانگنے والے کو واپس نہ کرنا اور لوگوں میں سے کوئی ایسا شخص تمہارے ساتھ ہرگز نہ رہے ، جو جادوگر ہو ، یا جادوگر عورت ہو ، یا کاہن مرد ہو ، یا کاہن عورت ہو ، یا نجومی مرد ہو ، یا نجومی عورت ہو ، یا شاعر مرد ہو ، یا شاعر عورت ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو بے شک ہر وہ عذاب کے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو عذاب دینا چاہیئے ، تو اسے آسمان دنیا کی طرف بھیجا جائے گا ، تو میں تمہیں شام کے وقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے منع کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی لہبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔