مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ . باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامٌ يَأْكُلُ مِنْهُ فَقَالَ : " ادْنُوا فَكُلُوا مِنْ هَذَا الطَّعَامِ " . فَقُلْنَا : إِنَّا صِيَامٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " هَلْ صُمْتُمْ أَمْسِ ؟ " . قُلْنَا : لَا ! قَالَ : " تُرِيدُونَ أَنْ تَصُومُوا غَدًا ؟ " . قُلْنَا : لَا . قَالَ : " ادْنُوا فَكُلُوا فَإِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَا يُصَامُ وَحْدَهُ ; يُتَّخَذُ عِيدًا " . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِزِيَادَةِ : " يُتَّخَذُ عِيدًا " ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کے پاس کھانا موجود تھا جس میں سے آپ کھا رہے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ آگے ہو جاؤ اور اس کھانے میں سے کھاؤ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے گزشتہ کل روزہ رکھا تھا ہم نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ ارادہ رکھتے ہو کہ آئندہ کل روزہ رکھو گے ہم نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر آگے ہو کے کھاؤ کیونکہ صرف جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھا جاتا ہے ، اسے عید بنا لیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں ان الفاظ کے اضافے کے ساتھ نقل کی ہے : ” اسے عید بنا لیا جائے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید مقبری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔