حدیث نمبر: 5209
وَعَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَصُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَا أُكَلِّمُ أَحَدًا ذَلِكَ الْيَوْمَ ؟ قَالَ : " لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ هُوَ أَحَدُهَا ، وَأَمَّا لَا تُكَلِّمُ أَحَدًا فَلَعَمْرِي لَأَنْ تُكَلِّمَ فَتَأْمُرَ بِمَعْرُوفٍ وَتَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ " . ¤ هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَقَدْ قِيلَ إِنَّهَا صَحَابِيَّةٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : میں جمعہ کے دن روزہ رکھ لیا کروں اور میں اس دن کسی سے کلام نہیں کروں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو یہ دنوں میں سے ایک دن ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تم کسی سے کلام نہیں کرو گے ( یعنی چپ کے روزے کا تعلق ہے ) تو مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے اگر تم کلام کر کے کسی کو نیکی کے بارے میں حکم دو یا برائی سے منع کرو تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم خاموش رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ لیلی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا ایک قول کے مطابق وہ خاتون صحابیہ ہیں اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1232) . اخرجه احمد فى المسند (225,224/5)»