حدیث نمبر: 5208
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صرف جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5209
وَعَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَصُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَا أُكَلِّمُ أَحَدًا ذَلِكَ الْيَوْمَ ؟ قَالَ : " لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ هُوَ أَحَدُهَا ، وَأَمَّا لَا تُكَلِّمُ أَحَدًا فَلَعَمْرِي لَأَنْ تُكَلِّمَ فَتَأْمُرَ بِمَعْرُوفٍ وَتَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ " . ¤ هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَقَدْ قِيلَ إِنَّهَا صَحَابِيَّةٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : میں جمعہ کے دن روزہ رکھ لیا کروں اور میں اس دن کسی سے کلام نہیں کروں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو یہ دنوں میں سے ایک دن ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تم کسی سے کلام نہیں کرو گے ( یعنی چپ کے روزے کا تعلق ہے ) تو مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے اگر تم کلام کر کے کسی کو نیکی کے بارے میں حکم دو یا برائی سے منع کرو تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم خاموش رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ لیلی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا ایک قول کے مطابق وہ خاتون صحابیہ ہیں اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ لیلی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا ایک قول کے مطابق وہ خاتون صحابیہ ہیں اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5210
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامٌ يَأْكُلُ مِنْهُ فَقَالَ : " ادْنُوا فَكُلُوا مِنْ هَذَا الطَّعَامِ " . فَقُلْنَا : إِنَّا صِيَامٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " هَلْ صُمْتُمْ أَمْسِ ؟ " . قُلْنَا : لَا ! قَالَ : " تُرِيدُونَ أَنْ تَصُومُوا غَدًا ؟ " . قُلْنَا : لَا . قَالَ : " ادْنُوا فَكُلُوا فَإِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَا يُصَامُ وَحْدَهُ ; يُتَّخَذُ عِيدًا " . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِزِيَادَةِ : " يُتَّخَذُ عِيدًا " ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کے پاس کھانا موجود تھا جس میں سے آپ کھا رہے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ آگے ہو جاؤ اور اس کھانے میں سے کھاؤ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے گزشتہ کل روزہ رکھا تھا ہم نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ ارادہ رکھتے ہو کہ آئندہ کل روزہ رکھو گے ہم نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر آگے ہو کے کھاؤ کیونکہ صرف جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھا جاتا ہے ، اسے عید بنا لیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں ان الفاظ کے اضافے کے ساتھ نقل کی ہے : ” اسے عید بنا لیا جائے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید مقبری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں ان الفاظ کے اضافے کے ساتھ نقل کی ہے : ” اسے عید بنا لیا جائے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید مقبری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5211
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عِيدُكُمْ فَلَا تَصُومُوهُ إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن لدین اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک جمعہ کے دن تمہاری عید ہے ، تو تم اس دن روزہ نہ رکھو البتہ اگر تم اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھو تو حکم مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5212
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يُحْيِي لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ وَيَصُومُ يَوْمَهَا فَأَتَاهُ سَلْمَانُ - وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَهُمَا - فَنَامَ عِنْدَهُ فَأَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ لَيْلَتَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ سَلْمَانُ فَلَمْ يَدَعْهُ حَتَّى نَامَ وَأَفْطَرَ فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُوَيْمِرُ ، سَلْمَانُ أَعْلَمُ مِنْكَ ; لَا تَخُصَّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِصَلَاةٍ ، وَلَا يَوْمَهَا بِصِيَامٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودردار رضی اللہ عنہ شب جمعہ میں رات بھر عبادت کرتے تھے ، اور جمعہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہوا تھا سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ان کے ہاں سو گئے سیدنا ابودرداء نے رات کے وقت اٹھ کر نوافل ادا کرنے کا ارادہ کیا ، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ اٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور انہیں ایسا نہیں کرنے دیا یہاں تک کہ وہ سو گئے اگلے دن انہیں روزہ بھی نہیں رکھنے دیا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عویمر ! سلمان تم سے زیادہ علم رکھتا ہے تم جمعہ کی شب کو نماز ادا کرنے کے لئے اور اس کے دن کو روزہ رکھنے کے لئے مخصوص نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5213
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي جُمُعَةٍ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی جمعہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 5214
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُفْطِرًا فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھتے ہوئے ، نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے صالح احادیث منقول ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے صالح احادیث منقول ہیں ۔
حدیث نمبر: 5215
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ يَوْمَ جُمُعَةٍ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 5216
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى الْجُمُعَةَ ، وَصَامَ يَوْمَهُ ، وَعَادَ مَرِيضًا ، وَشَهِدَ جِنَازَةً ، وَشَهِدَ نِكَاحًا ; وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الْأَوْصَابِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جمعہ کی نماز ادا کرے اس ( جمعہ کے ) دن روزہ رکھے بیمار کی عیادت کرے جنازے میں شریک ہو نکاح میں شریک ہو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حفص اوصابی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حفص اوصابی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔