حدیث نمبر: 5201
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ جُبَيْرٍ مَوْلَى خَارِجَةَ أَنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " لَا لَكِ وَلَا عَلَيْكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعُمَيْرٌ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

عمیر بن جبیر ، جو خارجہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : وہ خاتون جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہفتے کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تھا اس نے انہیں یہ بات بتائی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہ تمہیں اس بارے میں کچھ ملے گا نہ تمہارے خلاف کچھ ہو گا ( یعنی نہ تمہیں ثواب ملے گا ، اور نہ ہی تمہیں گناہ ہو گا ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ عمیر نامی اس شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5201
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (368/6)»