حدیث نمبر: 5199
وَعَنْ كُرَيْبٍ قَالَ : أَرْسَلَنِي نَاسٌ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا : أَيُّ الْأَيَّامِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لَهَا صَوْمًا ؟ فَقَالَتِ : السَّبْتُ وَالْأَحَدُ وَيَقُولُ : " هُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ ، فَأُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

کریب بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کون سے دن زیادہ روزے رکھا کرتے تھے ؟ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : ہفتے اور اتوار کے دن آپ یہ فرماتے تھے : یہ دونوں دن مشرکین کی عید ( کے دن ہیں ) ، تو مجھے یہ پسند ہے کہ میں ان کے برخلاف کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن حبان نے اسے ” صحیح “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5199
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (283/22 و402)»