حدیث نمبر: 5143
وَعَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ : اسْقُونِي . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا غُلَامُ ، اسْقِهِ عَسَلًا . ثُمَّ قَالَتْ : وَمَا أَنْتَ يَا مَسْرُوقُ بِصَائِمٍ ؟ قَالَ : لَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ يَوْمَ الْأَضْحَى . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَيْسَ ذَاكَ إِنَّمَا عَرَفَةُ يَوْمَ يُعَرِّفُ الْإِمَامُ ، وَيَوْمُ النَّحْرِ يَوْمَ يَنْحَرُ الْإِمَامُ ، أَوَمَا سَمِعْتَ يَا مَسْرُوقُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْدِلُهُ بِأَلْفِ يَوْمٍ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ ; ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

مسروق بیان کرتے ہیں : وہ عرفہ کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا: آپ مجھے کچھ پینے کے لئے دیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے غلام اسے شہد پلاؤ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے مسروق تم نے روزہ نہیں رکھا ہوا ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی نہیں مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں یہ قربانی کا دن نہ ہو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ایسا نہیں ہے عرفہ کا دن وہ ہوتا ہے ، جسے امام ( یعنی حاکم وقت ) نے عرفہ کا دن قرار دیا ہو ، اور قربانی کا دن وہ ہوتا ہے ، جسے امام ( یعنی حاکم وقت ) نے قربانی کا دن قرار دیا ہو اے مسروق ! کیا تم نے یہ بات نہیں سنی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کو ایک ہزار دنوں کے برابر قرار دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دلہم بن صالح ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف