حدیث نمبر: 5138
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ لِعَرَفَاتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن عرفات والوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابویحیی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابویحیی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5139
وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ شَرَابٍ يَوْمَ عَرَفَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ کے دن دیکھا آپ نے مشروب پی لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 5140
وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَفْطِرِي ! فَقَالَتْ : أُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ " ؟ ! . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ بَلْ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : لَا أَعْلَمُهُ لَقِيَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور ان پر پانی چھڑکا جا رہا تھا سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم روزہ ختم کر دو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں روزہ ختم کر دوں جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عرفہ کے دن کا روزہ اس سے پہلے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے بلکہ یحیی بن معین کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق اس نے کسی بھی صحابی سے ملاقات نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے بلکہ یحیی بن معین کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق اس نے کسی بھی صحابی سے ملاقات نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5141
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ غُفِرَ لَهُ سَنَتَيْنِ مُتَتَابِعَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عرفہ کے دن روزہ رکھتا ہے اس کے مسلسل دو سال کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5142
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ غُفِرَ لَهُ سَنَةٌ أَمَامَهُ وَسَنَةٌ خَلْفَهُ ، وَمَنْ صَامَ عَاشُورَاءَ غُفِرَ لَهُ سَنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عرفہ کے دن روزہ رکھتا ہے اس کے ایک گزشتہ سال کے اور ایک آئندہ سال کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اور جو شخص عاشوراء کے دن روزہ رکھتا ہے اس کے ایک سال کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صھبان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں
یہ روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس میں صرف عاشوراء کے دن کا ذکر ہے ، اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صھبان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں
یہ روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس میں صرف عاشوراء کے دن کا ذکر ہے ، اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5143
وَعَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ : اسْقُونِي . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا غُلَامُ ، اسْقِهِ عَسَلًا . ثُمَّ قَالَتْ : وَمَا أَنْتَ يَا مَسْرُوقُ بِصَائِمٍ ؟ قَالَ : لَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ يَوْمَ الْأَضْحَى . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَيْسَ ذَاكَ إِنَّمَا عَرَفَةُ يَوْمَ يُعَرِّفُ الْإِمَامُ ، وَيَوْمُ النَّحْرِ يَوْمَ يَنْحَرُ الْإِمَامُ ، أَوَمَا سَمِعْتَ يَا مَسْرُوقُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْدِلُهُ بِأَلْفِ يَوْمٍ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ ; ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : وہ عرفہ کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا: آپ مجھے کچھ پینے کے لئے دیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے غلام اسے شہد پلاؤ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے مسروق تم نے روزہ نہیں رکھا ہوا ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی نہیں مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں یہ قربانی کا دن نہ ہو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ایسا نہیں ہے عرفہ کا دن وہ ہوتا ہے ، جسے امام ( یعنی حاکم وقت ) نے عرفہ کا دن قرار دیا ہو ، اور قربانی کا دن وہ ہوتا ہے ، جسے امام ( یعنی حاکم وقت ) نے قربانی کا دن قرار دیا ہو اے مسروق ! کیا تم نے یہ بات نہیں سنی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کو ایک ہزار دنوں کے برابر قرار دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دلہم بن صالح ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دلہم بن صالح ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5144
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ كَانَ لَهُ كَفَّارَةَ سَنَتَيْنِ ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا مِنَ الْمُحَرَّمِ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ ثَلَاثُونَ يَوْمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ سَلَّامٍ الطَّوِيلِ ، وَسَلَّامٌ ضَعِيفٌ وَأَمَّا الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ فَلَمْ أَرَ مَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ غَيْرُ الذَّهَبِيِّ ; اتَّهَمَهُ بِخَبَرٍ رَوَاهُ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عرفہ کے دن روزہ رکھتا ہے ، تو یہ اس کے لئے دو سال کے ( گناہوں کا ) کفارہ بن جاتا ہے ، اور جو شخص محرم کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے ، تو ہر ایک دن کے عوض میں اسے تیس دن کا ثواب ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ مذکور ہے اسے ہیشم بن حبیب نے سلام طویل سے روایت کیا ہے ، اور سلام نامی راوی ضعیف ہے جہاں تک ہیثم بن حبیب کا تعلق ہے ، تو ذہبی کے علاوہ میں نے کسی اور کو اس کے بارے میں کلام کرتے ہوئے نہیں سنا ہے ذہبی نے اس روایت کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی ہے ، جو روایت اس نے نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ مذکور ہے اسے ہیشم بن حبیب نے سلام طویل سے روایت کیا ہے ، اور سلام نامی راوی ضعیف ہے جہاں تک ہیثم بن حبیب کا تعلق ہے ، تو ذہبی کے علاوہ میں نے کسی اور کو اس کے بارے میں کلام کرتے ہوئے نہیں سنا ہے ذہبی نے اس روایت کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی ہے ، جو روایت اس نے نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5145
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ؟ فَقَالَ : كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعْدِلُهُ بِصَوْمِ سَنَتَيْنِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ النَّسَائِيِّ : يَعْدِلُهُ بِصَوْمِ سَنَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے جواب دیا : جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو ہم اس دن کو دو سال کے روزوں کے برابر سمجھتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے امام نسائی رحمہ اللہ نے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ کہ وہ اسے ایک سال کے روزوں کے برابر سمجھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت نقل کی ہے ۔ کہ وہ اسے ایک سال کے روزوں کے برابر سمجھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5146
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ قَالَ : " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الَّتِي أَنْتَ فِيهَا ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ کہ آپ سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس سال کا کفارہ بن جاتا ہے ، جس میں تم ہو ، اور اس کے بعد والے سال کا بھی ( کفارہ بن جاتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔