حدیث نمبر: 5128
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ : احْلِبْ لَهُمْ يَا غُلَامُ . فَقَامَ الْغُلَامُ إِلَى نَعْجَةٍ فَحَلَبَهَا ، فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لِلَّذِي عَنْ يَمِينِهِ : اشْرَبْ . فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ : قَبِلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ . ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِي ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . فَقَالَ لِلثَّالِثِ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . فَقَالَ : أَكُلُّكُمْ صَائِمُونَ ؟ يُوشِكُ أَنْ تَتَّخِذُوا هَذَا الْيَوْمَ بِمَنْزِلَةِ رَمَضَانَ إِنَّمَا كُنَّا نَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ ، فَلَمَّا افْتُرِضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ نَسَخَ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمَ هَذَا الْيَوْمِ ، وَهَذَا الْيَوْمُ تَطَوُّعٌ لَيْسَ بِفَرِيضَةٍ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ . فَلَمَّا سَمِعَ الْقَوْمُ ذَلِكَ أَفْطَرُوا جَمِيعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن ابوسعد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ عاشوراء کے دن عائذ بن عمرو کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : اے غلام تم ان کے لئے دودھ دوہ لو ! وہ غلام اٹھ کر ایک بکری کے پاس گیا اس نے اس کا دودھ دوہ لیا پھر وہ ان لوگوں کے پاس آیا تو عائذ نے اپنے دائیں طرف موجود فرد سے کہا: تم پی لو اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے عائذ نے کہا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے اور تمہاری طرف سے قبول کرے پھر انہوں نے دوسرے شخص سے کہا: تو اس نے بھی کہا: کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ، تو عائذ نے اس کی مانند کلمات کہے ۔ انہوں نے تیسرے سے کہا: تو اس نے اس کی مانند کلمات کہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا تم سب لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے ؟ عنقریب ایسا ہو گا کہ تم اس دن کو رمضان کی مانند سمجھنا شروع کر دو گے ہم اس دن کا روزہ رمضان کا فرض لازم ہونے سے پہلے رکھا کرتے تھے ، جب رمضان ہم پر فرض ہو گیا تو رمضان کے روزے نے اس دن کے روزے کو منسوخ کر دیا تو آج کا دن نفلی روزے کا ہے فرض نہیں ہے ، جو شخص چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے ، تو وہ روزہ ترک کر دے جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ان سب نے روزہ ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حشرج بن عبداللہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5128
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «. اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (20;19/18)»