مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنَ الْعِلْمِ يَتَعَلَّمُهُ الرَّجُلُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَلْفِ رَكْعَةٍ تَطَوُّعًا . باب: بلا عنوان
حدیث نمبر: 512
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْبِحَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَلَا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِ الْأَزْدِيِّ فِي مِثْلِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے ، ہر چیز ، یہاں تک کہ سمندروں میں موجود مچھلیاں بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ بن زرارہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ، لیکن اس طرح کی صورتحال میں ازدی کے قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔