مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنَ الْعِلْمِ يَتَعَلَّمُهُ الرَّجُلُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَلْفِ رَكْعَةٍ تَطَوُّعًا . باب: بلا عنوان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُلَمَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ رَجُلَانِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا ، فَبَذَلَهُ لِلنَّاسِ ، وَلَمْ يَأْخُذْ عَلَيْهِ طَمَعًا وَلَمْ يَشْتَرِ بِهِ ثَمَنًا ، فَذَلِكَ تَسْتَغْفِرُ لَهُ حِيتَانُ الْبَحْرِ وَدَوَابُّ الْبَرِّ وَالطَّيْرُ فِي جَوِّ السَّمَاءِ ، وَيَقْدَمُ عَلَى اللَّهِ سَيِّدًا شَرِيفًا حَتَّى يُرَافِقَ الْمُرْسَلِينَ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا ، فَبَخِلَ بِهِ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ طَمَعًا ، وَاشْتَرَى بِهِ ثَمَنًا ، فَذَاكَ يُلْجَمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ ، وَيُنَادِي مُنَادٍ : هَذَا الَّذِي آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا فَبَخِلَ بِهِ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ طَمَعًا ، وَاشْتَرَى بِهِ ثَمَنًا ، وَكَذَلِكَ حَتَّى يَفْرَغَ مِنَ الْحِسَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس امت کے علماء دو افراد ہیں ، ( ایک ) وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ اُسے لوگوں پر خرچ کرتا ہو ، وہ اُس حوالے سے کوئی لالچ نہ رکھتا ہو ، اور اس کا کوئی معاوضہ نہ لیتا ہو ، تو اس کے لیے سمندر کی مچھلیاں ، خشکی کے جانور اور فضا میں موجود پرندے دعائے مغفرت کرتے ہیں ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو سردار اور معزز فرد ہونے کے طور پر حاضر ہو گا ، یہاں تک کہ وہ ” مرسلین “ کے ساتھ ہو گا ، اور ( دوسرا ) وہ شخص ، جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ اس علم کے حوالے سے ، اللہ کے بندوں سے بخل سے کام لیتا ہو ، وہ اس کے حوالے سے لالچ رکھتا ہو ، اور اس کا معاوضہ وصول کرتا ہو ، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی ، اور ایک منادی یہ پکار کر کہے گا : یہ وہ شخص ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا اور اس نے اس علم کے حوالے سے ، اللہ کے بندوں کے ساتھ بخل سے کام لیا ، اس نے اُس کے حوالے سے لالچ کیا اور اُس کا معاوضہ وصول کیا ، یہ اعلان اُس وقت تک ہوتا رہے گا ، جب تک حساب ختم نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ امام ابوزرعہ ، امام ابوحاتم اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔