مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ . باب: عاشوراء کے روزے کا بیان
وَعَنْ عُلَيْلَةَ عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ : قُلْتُ لِأَمَةِ اللَّهِ بِنْتِ رُزَيْنَةَ : يَا أَمَةَ اللَّهِ ، حَدَّثَتْكِ أُمُّكِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ صَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، وَكَانَ يُعَظِّمُهُ حَتَّى يَدْعُوَ بِرُضَعَائِهِ وَرُضَعَاءِ ابْنَتِهِ فَاطِمَةَ فَيَتْفُلُ فِي أَفَوَاهِهِنَّ ، وَيَقُولُ لِلْأُمَّهَاتِ : " لَا تُرْضِعُوهُنَّ إِلَى اللَّيْلِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَظِّمُهُ حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَدْعُوَ بِصِبْيَانِهِ وَصِبْيَانِ فَاطِمَةَ الْمَرَاضِعِ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَيَتْفُلُ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَيَقُولُ لِأُمَّهَاتِهِمْ : " لَا تُرْضِعُوهُمْ إِلَى اللَّيْلِ " . وَكَانَ رِيقُهُ يُجْزِئُهُمْ . ¤ وَعُلَيْلَةُ وَمَنْ فَوْقَهَا لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُنَّ ، وَسَمَّى الطَّبَرَانِيُّ فَقَالَ : عُلَيْلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ ، عَنْ أُمِّهَا أَمِينَةَ . ¤علیلہ نامی خاتون اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : میں نے امتہ اللہ بنت رزینہ سے کہا: اے امتہ اللہ ! کیا آپ کی والدہ نے آپ کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عاشوراء کے روزے کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ تو اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کی تعظیم کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ اپنے اور اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دودھ پیتے بچوں کو بلاتے تھے ، اور ان کے منہ میں لعاب دہن ڈال دیتے تھے اور ان کی ماؤں سے یہ فرماتے تھے کہ رات ہونے تک انہیں دودھ نہ پلانا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعظیم کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ اپنے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دودھ پیتے بچوں کو بھی بلواتے تھے ، اور ان کے منہ میں لعاب دہن ڈال دیتے تھے ، اور ان کی ماؤں سے یہ کہتے تھے : رات ہونے تک تم انہیں دودھ نہ پلانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن ان بچوں کے لئے کفایت کر جاتا تھا “ ۔ علیلہ نامی خاتون اور اس سے اوپر کی خواتین کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ امام طبرانی نے یہ بات بیان کی ہے علیلہ بنت کمیت نے اپنی والدہ امینہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔