مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ . باب: عاشوراء کے روزے کا بیان
حدیث نمبر: 5113
وَعَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ : " ائْتِ قَوْمَكَ فَمُرْهُمْ أَنْ يَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أُرَانِي آتِيهِمْ حَتَّى يَطْعَمُوا ؟ قَالَ : " فَمُرْ مَنْ طَعِمَ مِنْهُمْ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عاشوراء کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا اور ارشاد فرمایا : تم اپنی قوم کے پاس جاؤ اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ آج کے دن روزہ رکھیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ جب میں ان کے پاس پہنچوں گا ، تو وہ لوگ کچھ کھا چکے ہوں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے جس نے کچھ کھا لیا ہو اس کو تم یہ ہدایت کرنا کہ وہ باقی دن میں روزہ رکھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔