حدیث نمبر: 5112
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَكَانَ هِنْدُ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَخُوهُ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ قَوْمَهُ بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ ، وَهُوَ أَسْمَاءُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ هِنْدٍ عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فَقَالَ : " مُرْ قَوْمَكَ بِصِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ " . قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتَهُمْ قَدْ طَعِمُوا ؟ قَالَ : " فَلْيُتِمُّوا آخِرَ يَوْمِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا شَبَّهَ الْمُرْسَلِ ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ أَبِيهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

یحیی بن ہند بن حارثہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ہند رضی اللہ عنہ کو غزوہ حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، اور ان کے بھائی وہ شخص ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا کہ وہ اپنی قوم کو عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیں ان کا نام سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہے ، تو یحیی بن ہند نے سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات مجھے بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا اور ارشاد فرمایا : تم اپنی قوم کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دو ! انہوں نے عرض کی : آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ اگر میں ان لوگوں کو پاتا ہوں کہ وہ کھانا کھا چکے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر وہ دن کے آخری حصے تک ( روزے کو ) مکمل کریں ( یعنی پھر کچھ نہ کھائیں پیئیں ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے اسے اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ان سے ان کے صاحبزادے نے یحیی بن ہند بن حارثہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (484/3)»