حدیث نمبر: 5097
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " صَالِحًا بِخَيْرٍ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُصْبِحْ صَائِمًا ، وَلَمْ يَعُدْ مَرِيضًا ، وَلَمْ يُشَيِّعْ جِنَازَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کا کیا حال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے بہتر ہے ایسے شخص کے طور پر جس نے روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح نہیں کی اس نے بیمار کی عیادت نہیں کی اور اس نے جنازے میں شرکت نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، جسے ابن حبان اور ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ دوسرے حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس سے پہلے بیمار کی عیادت کرنے کے باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5097
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ