مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ لَا يَدْخُلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا الصَّائِمُونَ " . باب: روزے کی فضیلت
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " صَالِحًا بِخَيْرٍ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُصْبِحْ صَائِمًا ، وَلَمْ يَعُدْ مَرِيضًا ، وَلَمْ يُشَيِّعْ جِنَازَةً " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ .
وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کا کیا حال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہوں ، اس شخص سے بہتر ہوں جس نے روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح نہیں کی اس نے بیمار کی عیادت نہیں کی اور اس نے جنازے میں شرکت نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، جسے ابن حبان اور ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ دوسرے حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس سے پہلے بیمار کی عیادت کرنے کے باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔