مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ لَا يَدْخُلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا الصَّائِمُونَ " . باب: روزے کی فضیلت
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا مُوسَى سَرِيَّةً فِي الْبَحْرِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ رَفَعُوا الشِّرَاعَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ إِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ مِنْ فَوْقِهِمْ : يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ قِفُوا أُخْبِرُكُمْ بِقَضَاءٍ قَضَاهُ اللَّهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَخْبِرْنَا إِنْ كُنْتَ مُخْبِرًا ؟ ! قَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَضَى عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ مَنْ أَعْطَشَ نَفْسَهُ لَهُ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ سَقَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْعَطَشِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک سمندری جنگی مہم پر بھیجا وہ لوگ سمندر میں موجود تھے ، ایک تاریک رات میں جب انہوں نے بادبان بلند کیے ، اسی دوران ان کے اوپر سے کسی ہاتف نے پکار کر کہا: اے کشتی والو ! تم ٹھہر جاؤ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے بارے میں بتاتا ہوں جو اس نے اپنی ذات کے حوالے سے طے کیا ہے سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ہمیں بتاؤ اگر تم نے بتانا ہے ، تو اس نے کہا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات کے حوالے سے یہ طے کیا ہے کہ جو شخص ایک گرم دن میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی خاطر پیاسا رکھے گا ( یعنی روزہ رکھے گا تو اللہ تعالی پیاس والے دن اسے سیراب کرے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔