مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ لَا يَدْخُلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا الصَّائِمُونَ " . باب: روزے کی فضیلت
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَعْمَالُ سَبْعَةٌ : عَمَلَانِ مُنْجِيَانِ ، وَعَمَلَانِ بِأَمْثَالِهِمَا ، وَعَمَلٌ بِعَشَرَةِ أَمْثَالِهِ ، وَعَمَلٌ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ ، وَعَمَلٌ لَا يَعْلَمُ ثَوَابَ عَامِلِهِ إِلَّا اللَّهُ ، فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ : فَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْبُدُهُ مُخْلِصًا لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً جُزِيَ بِهَا ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَلَمْ يَعْمَلْهَا جُزِيَ مِثْلَهَا ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً جُزِيَ عَشْرًا ، وَمَنْ أَنْفَقَ مَالَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ضُعِّفَتْ لَهُ نَفَقَةُ الدِّرْهَمِ بِسَبْعِمِائَةٍ ، وَالصِّيَامُ لَا يَعْلَمُ ثَوَابَ عَامِلِهِ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اعمال سات قسم کے ہوتے ہیں دو قسم کے اعمال نجات دلانے والے ہیں دو قسم کے عمل برابر کے ہوتے ہیں ایک عمل ایسا ہے ، جس کا اجر دس گنا ہوتا ہے ایک عمل ایسا ہے ، جس کا اجر سات سو گنا ہوتا ہے ، اور ایک عمل ایسا ہے کہ اسے کرنے والے کے ثواب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ، جہاں تک نجات دلانے والے عمل کا تعلق ہے ، تو جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اخلاص کے ساتھ اسی کی عبادت کرتا ہو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس شخص کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو اس کے لئے جہنم واجب ہو جائے گی جو شخص ایک برائی کرے تو اسے اس کے برابر کا ( یعنی ایک گنا ) بدلہ ملے اور جو شخص نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو اس کو ایک نیکی کا اجر ملے گا ، اور جو شخص ایک نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا ، اور جو شخص اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا ، تو اسے ایک درہم خرچ کرنے کا اجر سات سو گنا ملے گا ، اور روزہ رکھنے والے کے ثواب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ، جسے جمہورائمہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ کہا: ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔