مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ لَا يَدْخُلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا الصَّائِمُونَ " . باب: روزے کی فضیلت
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا أَتَأَسَّى عَلَى شَيْءٍ فَاتَنِي إِلَّا الصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ وَتَرْكِي الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ إِلَّا أَنْ أَكُونَ قَاتَلْتُهَا وَاسْتِقَالَتِي عَلِيًّا الْبَيْعَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَا آسَى عَلَى شَيْءٍ فَاتَنِي مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا الصَّوْمَ فِي الْهَوَاجِرِ ، وَأَنْ لَا أَكُونَ فَرَّجْتُ بَيْنَ قَدَمَيَّ فِي الصَّلَاةِ - يَعْنِي : طُولَ الصَّلَاةِ . ¤ وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ هَارُونَ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مجھے رہ جانے والی کسی بھی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہے جتنا روزے اور نماز پر ہے ، اور اس بات پر ہے کہ میں نے باغی گروہ کو کیوں چھوڑ دیا ؟ مجھے ان کے ساتھ لڑنا چاہیے تھا اور اس ( بات پر افسوس ہے ) کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کیوں واپس کر دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دنیا سے رہ جانے والی کسی بھی چیز پر مجھے اتنا افسوس نہیں ہے جتنا گرمیوں کے روزوں پر ہے ، اور یہ کہ میں نے نماز میں اپنے دونوں قدم کشادہ کیوں نہیں کیے ، ان کی مراد یہ تھی کہ میں نے طویل نماز ادا کیوں نہیں کی ؟ اس روایت کی سند میں ایک راوی سنان بن ہارون ہے ، جسے ابوحاتم نے اور ابن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔