حدیث نمبر: 5028
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : جَاءَ حُذَيْفَةُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ : أَلَا أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ عُكُوفٍ بَيْنَ دَارِكَ وَدَارِ الْأَشْعَرِيِّ ؟ ! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَعَلَّهُمْ أَصَابُوا وَأَخْطَأْتُ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : مَا أُبَالِي أَفِيهِ أَعْتَكِفُ أَمْ فِي بُيُوتِكُمْ هَذِهِ ، وَإِنَّمَا الِاعْتِكَافُ فِي هَذِهِ الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى . ¤ وَكَانَ الَّذِينَ اعْتَكَفُوا فَعَابَ عَلَيْهِمْ حُذَيْفَةُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ الْأَكْبَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكْ حُذَيْفَةَ . ¤
محمد محی الدین

ابراہیم بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : کیا میں ان لوگوں پر حیرانگی کا اظہار نہ کروں جو آپ کے اور اشعری کے گھر کے درمیان اعتکاف کرتے ہیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ٹھیک ہوں اور میں غلطی پر ہوں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تو اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ کیا میں وہاں اعتکاف کرتا ہوں یا آپ لوگوں کے گھروں میں کر لیتا ہوں اعتکاف صرف ان تین مساجد میں کیا جا سکتا ہے مسجد حرام مسجد مدینہ اور مسجد اقصیٰ میں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ لوگ جن پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا تھا یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کوفہ کی سب سے بڑی مسجد میں اعتکاف کیا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابراہیم نامی راوی نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5028
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9510)»