مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْغِيبَةِ لِلصَّائِمِ . باب: روزہ دار شخص کا غیبت کرنا
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ امْرَأَتَيْنِ صَامَتَا وَأَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَاهُنَا امْرَأَتَيْنِ قَدْ صَامَتَا ، وَإِنَّهُمَا قَدْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا مِنَ الْعَطَشِ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَوْ سَكَتَ . ثُمَّ عَادَ - وَأُرَاهُ قَالَ : بِالْهَاجِرَةِ - قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ قَدْ مَاتَتَا ، أَوْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا ؟ قَالَ : " ادْعُهُمَا " . قَالَ : فَجَاءَتَا . قَالَ : فَجِيءَ بِقَدَحٍ أَوْ عُسٍّ . فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا : " قِيئِي " . فَقَاءَتْ قَيْحًا وَدَمًا وَصَدِيدًا أَوْ لَحْمًا ، حَتَّى مَلَأَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ . ثُمَّ قَالَ لِلْأُخْرَى : " قِيئِي " . فَقَاءَتْ مِنْ قَيْحٍ وَدَمٍ وَصَدِيدٍ وَلَحْمٍ عَبِيطٍ وَغَيْرِهِ ، حَتَّى مَلَأَتِ الْقَدَحَ . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا أَحَلَّ اللَّهُ لَهُمَا ، وَأَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ، جَلَسَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى ، فَجَعَلَتَا تَأْكُلَانِ لُحُومَ النَّاسِ " . ¤سیدنا عبید رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : دو خواتین نے روزہ رکھا ہوا تھا ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہاں دو خواتین نے روزہ رکھا ہوا ہے ، اور پیاس کی وجہ سے وہ دونوں مرنے کے قریب ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا یا آپ خاموش رہے اس نے اپنی بات دہرائی راوی بیان کرتے ہیں : روایت میں یہ الفاظ ہیں : کہ یہ دن چڑھے کی بات ہے اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اللہ کی قسم یہ دونوں مر جائیں گی ، یا دونوں مرنے کے قریب ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کو بلا کے لاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ دونوں خواتین آئیں پھر ایک پیالہ یا ایک برتن لایا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک خاتون سے فرمایا تم قے کرو اس نے پیپ ، خون اور گوشت کی قے کی یہاں تک کہ نصف پیالہ بھر گیا پھر آپ نے دوسری خاتون سے فرمایا کہ تم بھی قے کرو تو اس نے بھی خون ، پیپ اور گوشت کی قے کی یہاں تک کہ پیالہ بھر گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں نے اس چیز کے حوالے سے تو روزہ رکھا ہوا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لئے حلال قرار دی تھی اور انہوں نے اس چیز کے حوالے سے روزہ نہیں رکھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام قرار دی ہے ، ان میں سے ایک دوسری کے پاس آ کے بیٹھی اور ان دونوں نے لوگوں کا گوشت کھانا شروع کر دیا ( یعنی غیبت کرنا شروع کر دی ) ۔