حدیث نمبر: 5
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ " . قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَلَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ ؟ هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَلْزَمَهَا اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤ قُلْتُ : لِعُمَرَ حَدِيثٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں ایک کلمہ کے بارے میں جانتا ہوں ، جسے کوئی بندہ سچے دل سے پڑھ لے ، تو وہ آگ پر حرام ہو جاتا ہے “ ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ) کیا میں آپ کو بتاؤں ، وہ کلمہ کون سا ہے ؟ وہ کلمہ اخلاص ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب پر لازم قرار دیا اور یہ تقویٰ والا وہ کلمہ ہے ، جس کی تلقین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ( جناب ابوطالب ) کو ان کے انتقال کے وقت کی تھی ، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ” میں یہ کہتا ہوں ، سیدنا عمر کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے اس سیاق کے بغیر روایت کیا ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کو امام أحمد نے روایت کیا ہے ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 5
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 3»