مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ . باب: روزہ دار شخص کا پچھنے لگوانا
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَهُوَ يَحْتَجِمُ لَيْلًا فَقَالَ : لَوْ كَانَ نَهَارًا ؟ فَقَالَ : تَأْمُرُنِي أَنْ أُهْرِيقَ دَمِي وَأَنَا صَائِمٌ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ; خَلَا شَيْخِ الْبَزَّارِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ; لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، وہ سیدنا ابوموسیٰ کے پاس آئے جو رات کے وقت پچھنے لگوا رہے تھے تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر دن کے وقت لگوا لیتے تو مناسب تھا سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے یہ کہہ رہے ہو کہ میں دن کے وقت خون بہاؤں جبکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہو جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام بزار کے استاد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ، ( لیکن وہ صیح کے رجال میں سے نہیں ہے ) ۔