حدیث نمبر: 4929
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ ، فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَنَزَلْنَا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَّا فَدَخَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَإِذَا أَصْحَابُهُ يَلُوذُونَ بِهِ ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ كَهَيْئَةِ الْوَجِعِ ، فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ ؟ " . قَالُوا : صَائِمٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ ، عَلَيْكُمْ بِالرُّخْصَةِ الَّتِي أَرْخَصَ اللَّهُ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ سے آ رہے تھے ایک شدید گرم دن میں ہم سفر کرتے رہے ہم نے راستے میں پڑاؤ کیا ہم میں سے ایک شخص گیا اور ایک درخت کے سائے میں آ گیا اس کے ساتھیوں نے اسے سہارا دیا ہوا تھا وہ لیٹا ہوا تھا اور اس کو تکلیف محسوس ہو رہی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ کیا ، تو دریافت کیا : تمہارے ساتھی کا کیا معاملہ ہے ۔ لوگوں نے بتایا : اس نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چیز نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر کے دوران روزہ رکھو تم پر رخصت کو اختیار کرنا لازم ہے جو ( رخصت ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے تم اسے قبول کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4929
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔