مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ . باب: سفر کے دوران روزہ رکھنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ بِأَصْحَابِهِ ، وَإِذَا نَاسٌ قَدْ جَعَلُوا عَرِيشًا عَلَى صَاحِبِهِمْ ، وَهُوَ صَائِمٌ ، فَمَرَّ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : "مَا شَأْنُ صَاحِبِكُمْ ؟ أَوَجِعٌ ؟ " . قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنَّهُ صَائِمٌ ، وَذَلِكَ فِي يَوْمٍ حَرُورٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا بِرَّ أَنْ يُصَامَ فِي سَفَرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑاؤ کیا اسی دوران آپ کے ایک ساتھی پر سایہ کر دیا گیا اس شخص نے روزہ رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان لوگوں کے پاس سے ہوا آپ نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کا کیا معاملہ ہے کیا اسے کوئی تکلیف ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ، یا رسول اللہ ! اس نے روزہ رکھا ہوا ہے راوی کہتے ہیں : وہ ایک گرم دن تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ نیکی نہیں ہے کہ سفر کے دوران روزہ رکھا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔