مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْوِصَالِ . باب: صوم وصال کا بیان
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ بَيْنَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَةٍ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ وِصَالَكَ ، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدَكَ ; وَذَلِكَ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ : ( ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ) فَلَا صِيَامَ بَعْدَ اللَّيْلِ ، وَأَمَرَنِي بِالْوِتْرِ بَعْدَ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، وَلَمْ أَعْرِفْ عَبْدَ الْمَلِكِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں اور ایک رات کو ملا کر صوم وصال رکھا سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور بولے : بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کے صوم وصال کو قبول کر لیا ہے ، اور یہ آپ کے بعد کسی کے لئے حلال نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” پھر تم لوگ روزے کو رات تک مکمل کر لو“ ۔ تو رات ہو جانے کے بعد روزہ نہیں رہے گا ، اور جبرائیل نے مجھے فجر ( صبح صادق ) ہو جانے کے بعد وتر ادا کرنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبدالملک کے حوالے سے سیدنا ابوغفاری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ میں عبدالملک سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔