حدیث نمبر: 4863
وَعَنْ شَيْبَانَ أَنَّهُ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَجَلَسَ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَ صَوْتَهُ فَقَالَ : " أَبَا يَحْيَى ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ادْخُلْ " . فَدَخَلَ فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَدَّى قَالَ : " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ . قَالَ : " وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ، إِنَّ مُؤَذِّنَنَا فِي بَصَرِهِ سُوءٌ ; أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ; وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ مسجد کی طرف گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرے کے پاس بیٹھ گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو فرمایا : ابویحیی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اندر آ جاؤ وہ اندر گئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ناشتہ کر رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ناشتے کی طرف آؤ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا بھی روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ہمارے مؤذن کی بینائی میں کچھ کمزوری ہے وہ صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دے دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4863
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7228)»