حدیث نمبر: 4832
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْرِضُ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ يُصْبِحُ فَيَقُولُ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " . فَيَقُولُوا : مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ ، أَلَسْتَ صَائِمًا ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں ( یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ) روزے کی نیت کر لیتے تھے پھر اگلے دن صبح آپ دریافت کر لیتے تھے کیا تمہارے پاس ( کھانے کے لئے ) کوئی چیز ہے ، تو گھر والے کہتے تھے ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے کیا آپ نے آج ( نفلی ) روزہ نہیں رکھا ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (404/23)»