مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ احْتِرَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَمَعْرِفَةِ حَقِّهِ . باب: رمضان کے مہینے کا احترام کرنا اور اس کے حق کی معرفت کا بیان
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أُمَّتِي لَمْ يُخْزَوْا مَا أَقَامُوا شَهْرَ رَمَضَانَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا خِزْيُهُمْ فِي إِضَاعَةِ شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : " انْتِهَاكُ الْمَحَارِمِ فِيهِ ; مَنْ زَنَا فِيهِ ، أَوْ شَرِبَ فِيهِ خَمْرًا لَعَنَهُ اللَّهُ وَمَنْ فِي السَّمَاوَاتِ إِلَى مِثْلِهِ مِنَ الْحَوْلِ ، فَإِنْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ رَمَضَانُ فَلَيْسَتْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنَةٌ يَتَّقِي بِهَا النَّارَ ، فَاتَّقُوا شَهْرَ رَمَضَانَ ; فَإِنَّ الْحَسَنَاتِ تُضَاعَفُ فِيهِ مَا لَا تُضَاعَفُ فِيمَا سِوَاهُ ، وَكَذَلِكَ السَّيِّئَاتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو طَيْبَةَ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَلَمْ يَكُنْ مِمَّنْ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ ، وَلَكِنَّهُ نُسِبَ إِلَى الْوَهْمِ . ¤سیدہ اُم ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت اس وقت تک رسوائی کا شکار نہیں ہو گی جب تک وہ رمضان کے مہینے کو قائم رکھیں گے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! رمضان کے مہینے کو ضائع کرنے کی صورت میں ان کی رسوائی کیا ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ اس میں وہ حرمتوں کو پامال کریں جو شخص اس مہینے میں زنا کرے گا یا اس میں شراب پیے گا اللہ تعالیٰ آسمانوں میں موجود تمام مخلوق اگلے سال اس وقت تک اس پر لعنت کرتے رہیں گے اور اگر وہ اگلا رمضان پانے سے پہلے انتقال کر جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی صورت نصیب نہیں ہو گی جس کے ذریعے سے وہ جہنم سے بچ سکے تو تم رمضان کے مہینے کے بارے میں احتیاط کرو کیونکہ اس میں نیکیاں دگنی کر دی جاتی ہیں جو اس کے علاوہ کسی اور مہینے میں نہیں کی جاتی ہیں اور برائیوں کا معاملہ بھی اسی طرح ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سلیمان ابوطیبہ ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا ہے ، تاہم اس کی نسبت وہم کی طرف کی گئی ہے ۔