حدیث نمبر: 4796
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَتُزَيَّنُ مِنَ السَّنَةِ إِلَى السَّنَةِ لِشَهْرَ رَمَضَانَ ، فَإِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانُ قَالَتِ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا فِي هَذَا الشَّهْرِ مِنْ عِبَادِكَ سُكَّانًا . وَيَقُلْنَ الْحُورُ الْعِينُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا " . قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَمَنْ صَانَ نَفْسَهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمْ يَشْرَبْ فِيهِ مُسْكِرًا ، وَلَمْ يَرْمِ فِيهِ مُؤْمِنًا بِالْبُهْتَانِ ، وَلَمْ يَعْمَلْ [ فِيهِ ] خَطِيئَةً ; زَوَّجَهُ اللَّهُ كُلَّ لَيْلَةٍ مِائَةً حَوْرَاءَ ، وَبَنَى لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ وَيَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ ، لَوْ أَنَّ الدُّنْيَا جُمِعَتْ فَجُعِلَتْ فِي ذَلِكَ الْقَصْرِ لَمْ تَكُنْ فِيهِ إِلَّا كَمَرْبِطِ عَنْزٍ فِي الدُّنْيَا ، وَمَنْ شَرِبَ فِيهِ مُسْكِرًا ، أَوْ رَمَى فِيهِ مُؤْمِنًا بِبُهْتَانٍ ، وَعَمِلَ فِيهِ خَطِيئَةً ، أَحْبَطَ اللَّهُ عَمَلَهُ سَنَةً ; فَاتَّقُوا شَهْرَ رَمَضَانَ فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ أَنْ تُفَرِّطُوا فِيهِ ، فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ أَحَدَ عَشَرَ شَهْرًا تَنْعَمُونَ فِيهَا وَتَلَذُّونَ ، وَجَعَلَ لِنَفْسِهِ شَهْرَ رَمَضَانَ ; فَاحْذَرُوا شَهْرَ رَمَضَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا أَحْمَدُ بْنُ أَبْيَضَ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک جنت ایک سال سے اگلے سال تک رمضان کے مہینے کے لئے آراستہ ہوتی ہے ، جب رمضان آ جاتا ہے ، تو جنت یہ کہتی ہے : اے اللہ ! اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے میرے رہائشی مقرر کر دے اور حورعین یہ کہتی ہیں : اے اللہ ! اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے شوہر مقرر کر دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنی ذات کو محفوظ رکھتا ہے ، اور اس مہینے میں کوئی نشہ آور چیز نہیں پیتا ہے ، اور اس مہینے میں کسی مؤمن پر کوئی بہتان نہیں لگاتا ہے ، اور اس مہینے میں کوئی خطا نہیں کرتا ہے ، تو اللہ تعالی ہر ایک رات میں اس کی شادی ایک سو حوروں کے ساتھ کرتا ہے ، اور اس کے لئے جنت میں سونے چاندی یاقوت اور زبرجد کا بنا ہوا محل بنا دیتا ہے ، اگر تمام دنیا کو اکھٹا کر کے اس محل میں رکھا جائے ، تو وہ اس میں یوں ہوں گے ، جس طرح دنیا میں ایک بکری کے باندھنے کی جگہ ہوتی ہے اور جو شخص اس مہینے میں کوئی نشہ آور چیز پی لے یا اس میں کسی مؤمن پر بہتان لگا دے یا اس میں کوئی گناہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک سال کے عمل کو ضائع کر دیتا ہے ، تو تم رمضان کے مہینے میں بچ کے رہو کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے تم اس میں کوئی کوتاہی نہ کرو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے گیارہ مہینے مقرر کیے ہیں جن میں تم نعمتیں حاصل کرو اور لذتیں حاصل کرو اور رمضان کے مہینے کو اپنی ذات کے لئے مخصوص کیا ہے ، تو رمضان کے مہینے کے معاملے میں تم احتیاط سے کام لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل ہے وہ یہ فرماتے ہیں : امام اوزاعی کے حوالے سے اس روایت کو صرف أحمد بن ابیض نے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4796
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف