حدیث نمبر: 4790
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا اسْتَقْبَلَكُمْ ؟ وَمَاذَا تَسْتَقْبِلُونَ ؟ " ثَلَاثًا . قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَوَحْيٌ نَزَلَ أَمْ عَدُوٌ حَضَرَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ لِكُلِّ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ " . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَهُوَ يَهُزُّ رَأْسَهُ : بَخٍ بَخٍ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَأَنَّهُ ضَاقَ صَدْرُكَ ؟ " . قَالَ : لَا وَلَكِنْ ذَكَرْتُ الْمُنَافِقَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُنَافِقُ كَافِرٌ ، وَلَيْسَ لِكَافِرٍ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ ; وَلَمْ أَجِدْ لَهُ رَاوٍ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ حَمْزَةَ كَمَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے کیا چیز تمہارے سامنے آ رہی ہے ، اور تم کس چیز کا استقبال کرنے لگے ہو ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا کوئی وحی نازل ہوئی ہے ، یا دشمن آنے والا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ رمضان کے مہینے کی پہلی رات میں اس قبلہ والے تمام افراد کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک صاحب جو آپ کے پاس موجود تھے انہوں نے سر کو ہلاتے ہوئے کہا: بہت خوب بہت خوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شاید تم کسی پریشانی کا شکار ہوئے ہو اس نے عرض کی : جی نہیں ، لیکن مجھے ایک منافق کا خیال آ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : منافق کافر ہوتا ہے ، اور کافر کو اس میں سے کچھ نہیں ملتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلف ابوربیع ہے میں نے عمرو بن حمزہ کے علاوہ اور کسی کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں پایا ہے جیسا کہ یہ بات ابن ابوحاتم نے ذکر کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4790
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف