حدیث نمبر: 4772
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمْ صَوْمَ رَمَضَانَ وَلَمْ يَفْرِضْ عَلَيْكُمْ قِيَامَهُ ، وَإِنَّ قِيَامُهُ شَيْءٌ أَحْدَثْتُمُوهُ فَدُومُوا عَلَيْهِ ; فَإِنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ابْتَدَعُوا بِدْعَةً فَعَابَهُمُ اللَّهُ بِتَرْكِهَا فَقَالَ : ( وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض قرار دیے ہیں اس نے تم پر رمضان کا قیام ( یعنی تراویح ) فرض قرار نہیں دیا ہے ، اس کا قیام ایک ایسی چیز ہے کہ اگر تم اس کا آغاز کرو گے تو تم اس کو باقاعدگی سے کرنا کیونکہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے ایک بدعت ایجاد کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ترک کرنے کے حوالے سے ان پر اعتراض کرتے ہوئے یہ فرمایا : ” اور رہبانیت کو انہوں نے اختیار کیا تھا ہم نے ان پر لازم قرار نہیں دی تھی ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول تھا “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابومریم ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4772
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف