مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي السَّخَاءِ . باب: سخاوت کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيِّ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءَ فَرَأَى حِصْنَةً فِي الْأَمْوَالِ ، وَالْأَرَاضِي ، وَلَمْ يَكُنْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُمْ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " . فَقَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ . قَالَ : " لَوْ أَنَّكُمْ إِذَا هَبَطْتُمْ لِعِيدِكُمْ - يَعْنِي الْجُمُعَةَ - مَكَثْتُمْ حَتَّى تَسْمَعُوا مِنِّي قَوْلِي " . قَالُوا : نَعَمْ ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ . فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ حَضَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَتَنَفَّلَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ مَقَامِهِ ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّاهُمَا فِي بَيْتِهِ ، حَتَّى كَانَ يَوْمَئِذٍ فَتَنَفَّلَهُمَا فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ اسْتَقْبَلَهُمْ بِوَجْهِهِ فَتَبِعَتِ الْأَنْصَارُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " . فَقَالُوا : لَبَّيْكَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ . قَالَ : " كُنْتُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تَعْبُدُونَ اللَّهَ تَحْمِلُونَ الْكَلَّ فِي أَمْوَالِكُمْ ، وَتَفْعَلُونَ الْمَعْرُوفَ ، وَتَصِلُونَ حَتَّى إِذَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَنْتُمْ تُحْصِنُونَ . فِيمَا يَأْكُلُ ابْنُ آدَمَ أَجْرٌ ، وَفِيمَا يَأْكُلُ الطَّيْرُ أَجْرٌ ، وَفِيمَا يَأْكُلُ السَّبُعُ أَجْرٌ " . فَانْصَرَفَ الْقَوْمُ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ إِلَّا هَدَمَ مِنْ مَالِهِ ثُلْمَةً أَوْ ثَلَاثًا - يَعْنِي : هَدَمُوا فِي حِيطَانِ بَسَاتِينِهِمْ لِيَدْخُلَ الْقَوْمُ فَيَأْكُلُونَ مِنَ الثَّمَرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : " وَكَانَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَشْهَدُ الْجِنَازَةَ ، وَيُدْعَى فَيُجِيبُ " . وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قُلْتُ : وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا جابر بن عبدالله سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن اوس کے محلے میں بدھ کے دن تشریف لائے آپ نے لوگوں کی زمین اور اموال میں ایک بڑا گھر دیکھا جو آپ نے اس سے پہلے ملاحظہ نہیں فرمایا تھا آپ نے ان لوگوں سے فرمایا : اے انصار کے گروہ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اپنے عید کے موقع پر آؤ اور ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میری گفتگو سن لو تو یہ مناسب ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جمعہ کے دن ایسا کرنا لوگوں نے عرض کی : ٹھیک ہے ، یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جب جمعہ کا دن آیا تو وہ لوگ آپ کی اقتداء میں شریک ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے اپنی جگہ پر ہی دو رکعات نفل ادا کیے ۔ اس سے پہلے آپ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد گھر تشریف لے جایا کرتے تھے ، اور اپنے گھر میں وہ دو رکعات ادا کیا کرتے تھے ، لیکن اس دن آپ نے وہ دو نفل مسجد میں ادا کر لیے جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے اپنا رخ ان لوگوں کی طرف کیا انصار مسجد میں آ گئے تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آ گئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے انصار کے گروہ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زمانہ جاہلیت میں تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے تھے ، لیکن اپنے اموال کے ذریعے مصیبت زدہ کا زیادہ بوجھ اٹھاتے تھے ، اور بھلائی کا کام کیا کرتے تھے اور صلہ رحمی کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تم پر احسان کیا ، تو اب تم نے اونچے گھر قلعے بنانے شروع کر دیے ہیں انسان جو چیز کھاتا ہے اس کا اجر ملتا ہے پرندہ جو چیز کھاتا ہے درندہ جو چیز کھاتا ہے اس کا اجر ملتا ہے وہ لوگ واپس گئے تو ان میں سے ہر شخص نے اپنی زمین پر موجود عمارت کو گرا دیا راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے باغ کے اردگرد جو دیواریں بنائی ہوئی تھیں انہیں منہدم کر دیا تاکہ لوگ اندر جا کر وہاں کا پھل کھا سکیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ بیمار کی عیادت کرتے تھے جنازے میں شریک ہوتے تھے بلایا جاتا تھا ، تو چلے جایا کرتے تھے “ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس روایت کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔