حدیث نمبر: 4712
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ الْحَنْظَلِيِّ أَنَّ وَفْدًا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُمْ فَكَذَّبَهُ بَعْضُهُمْ فَقَالَ : " لَوْلَا سَخَاءٌ فِيكَ وَمِقَكَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَشَرَّدْتُ بِكَ وَافِدَ قَوْمٍ " . ¤ قُلْتُ : وَمِقَكَ : أَيْ أَحَبَّكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَكَأَنَّ الصَّحَابِيَّ سَقَطَ ; فَإِنَّ الْأَصْلَ سَقِيمٌ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي الْحُدُودِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

یحیی بن عباد حنظلی بیان کرتے ہیں : ایک وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے ان سے کچھ دریافت کیا ، تو ان میں سے کسی ایک نے آپ کی بات کو تسلیم نہیں کیا آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے اندر سخاوت موجود نہ ہوتی ، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرتا ہے ‘ تو اے قوم کے نمائندے ! میں تمہیں پرے کر دیتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : لفظ و مقک کا مطلب یہ ہے یعنی وہ تم سے محبت رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور گویا اس روایت میں صحابی کا ذکر نہیں ہے کیونکہ اصل میں سقم پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث حدود سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4712
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف