حدیث نمبر: 4710
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَلْعٍ الْأَنْصَارِي ، أَنَّ إِخْوَتَهُ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّهُ يُبَذِّرُ مَالَهُ وَيَبْسُطُ فِيهِ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آخُذُ نَصِيبِي مِنَ الثَّمَرَةِ فَأُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مَنْ صَحِبَنِي . فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدْرَهُ وَقَالَ : " أَنْفِقْ يُنْفِقِ اللَّهُ عَلَيْكَ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ خَرَجْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعِي رَاحِلَةٌ . قَالَ : وَأَنَا أَكْبَرُ أَهْلِ بَيْتِي الْيَوْمَ وَأَيْسَرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو عَاصِمٍ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا قیس بن سلع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے بھائیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی انہوں نے عرض کی : یہ اپنا مال فضول خرچ کرتا ہے ، اور بہت زیادہ خرچ کرتا ہے میں نے عرض کی : میں پھلوں میں سے اپنا حصہ خرچ کرتا ہوں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں اور اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : تم خرچ کرو اللہ تعالیٰ تم پر خرچ کرے گا یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی راوی کہتے ہیں : اس کے بعد میں اللہ کی راہ میں جنگ میں نکلا تو میرے پاس صرف ایک سواری تھی وہ فرماتے ہیں اس وقت میں اپنے اہل خانہ میں سب سے زیادہ بڑا ہوں اور سب سے زیادہ خوشحال ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سعید بن زیاد ابوعاصم اسے نقل کرنے میں منفرد ہے۔( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4710
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف